کشمیر پاکستان کے تحفط کی ضمانت؛کالم نگار: شاہد مشتاق سمبڑیال

0
61

کشمیر کی آزادی مضبوط پاکستان کے تحفظ کی ضمانت تھی ، ہے اور ہمیشہ رہیگی ، ہمارے لئے دو ہی صورتیں قابل قبول ہیں کہ کشمیر کا الحاق پاکستان کے ساتھ ہو یا اسے مکمل طور پہ آزادی دی جائے ، تیسرا کوئی بھی عمل ہمارے ملک و قوم اور خود کشمیریوں کے لئے سودمند ثابت نہیں ہوگا۔

پوری وادی ” پاکستان سے رشتہ کیا لا الہ الا اللہ ” کے نعروں سے گونج رہی ہے، کشمیر کے غیور نوجوان پاکستان سے محبت کا خراج اپنی جانوں کے نذرانے کی صورت ادا کررہے ہیں ۔ اج کشمیر جل رہا ہے ، لہو لہو ہے ، بھارت کا خبث باطن کھل کر طشت از بام ہوچکا ، بھارت نے تمام قانونی و آئینی راستے ختم کرکے کھلم کھلا اعلانیہ جموں و کشمیر پہ قبضہ کرلیا اور مظالم کا ایک نیا سلسلہ شروع کردیا ہے ۔ ہندو وہاں سات عشروں سے ظلم و ستم کررہا تھا اور اس سے ایسے ہی اقدامت کی توقع تھی اس میں حیران ہونے والی کوئی بات نہیں ۔

ہمارا اصل کام اس وقت بھارت کا گھناؤنہ چہرہ دنیا کے سامنے بے نقاب کرنا ہونا چاہئے، اس کے ساتھ ہمیں اب کھل کر کشمیر کے جہاد کو مضبوط کرنا چاہئے، کشمیری تحریکوں کی پشت پناہی کرنی چاہئے تاکہ پورے کشمیر کو پتہ چل جائے کہ پاکستان ہمیشہ اپنے بھائیوں کے ہر مشکل گھڑی میں ساتھ ہے ۔ ہم آزاد قوم ہیں لیکن ہمارا عمل آزاد قوموں والا ہرگزنہیں ، افسوس کہ اس اہم ترین مسلے پہ حکومت اور اپوذیشن بھی ایک پیج پہ نظر نہیں آتے ،دنیا کی بہترین افواج اور ایٹمی قوت ہونے کے باعث مقبوضہ جموں وکشمیر پہ بھارتی تسلط کے خلاف ہمارا طرز عمل بلی کی میاوں میاوں سے بڑھ کر کچھ بھی نہیں ۔ پاگل کتے کو بھگانے کے لئے میاوں میاوں کی نہیں AK47کی ضرورت ہوتی ہے ۔ بانئ پاکستان بابائے قوم نے کشمیر کو پاکستان کی شہ رگ قرار دیا تھا آج اگر ہم اپنی شہ رگ ایک بزدل دشمن سے آزاد نہیں کروا سکتے تو کیا فائدہ خالی کھوکھلے نعرے لگانے سے ۔ افغانستان کےقتل عام پہ ہماری خاموشی تو مجرمانہ تھی ہی کیا اب ہم بے بس کشمیریوں کو بھی مرنے کے لئے بھارتی غنڈوں(فوج)کے حوالے کر کہ خود خاموشی سے بیٹھے تماشہ دیکھتے رہیں گے۔

کشمیری ہر خراب صورتحال میں پاکستان کی طرف امید بھری نظروں سے دیکھتے ہیں اور ہمارے بہادر حکمران ہمیشہ پاکستانی قوم کی توقعات سے ہٹ کر فیصلے کرتے ہیں اللہ کے فضل سے ہمارے پاس بہترین افواج ، جدید ٹیکنالوجی ، اور نیوکلئیربم ہیں، پورا ملک جذبہ جہاد سے لبریز ہے ہماری افواج اور عوام کشمیر کی آزادی کے لئے کسی بھی حد تک جانے کے لئے تیار ہیں ، لیکن افسوس ہمارے حکمران جھنجلا کر پوچھتے ہیں ” اب میں کیا بھارت پہ حملہ کردوں ؟ “۔
جی بالکل نہیں ، محترم وزیراعظم صاحب !

آپ اسلحے کے محفوظ ذخائر اور اپنی طاقت و قوت کو صرف چھ ستمبر اور چودہ اگست کی نمائش کے لئے ” ٹاکی مار کر” رکھیں تاکہ دشمن پہ ہمارے خوف سے کپکپی طاری ہوجائے ۔ کشمیری مرتے ہیں تو انہیں مرنے دیجئے ، آخر افغانستان ، عراق ، فلسطین اور شام میں بھی تو لاکھوں مسلمان مارے گئے اور خود کشمیری بھی تو ستر سالوں سے لاشے اٹھا رہے ہیں پہلے کون سی قیامت ٹوٹی تھی ان مسلمانوں کے مرنے سے جو اب ٹوٹے گی؟ ۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here