ماں کا درجہ اور آجکل کی اولاد

0
325

جو ایک مادہ بچھو ہوتی ہے وہ اپنے بچے پیدا کرنے کے بعد ان سب بچوں کو اپنی کمر پر بٹھا لیتی ہے اور یہ بچے پھر اپنی ماں کا گوشت کھاتے ہیں اور اسی پر گزارا کرتے ہیں یہ بچے اپنی ماں کا گوشت تب تک کھاتے رہتے ہیں جب تک ان کی ماں نہیں مر جاتی،جب تک اس ماں کے بچے خود چلنے کے قابل نہیں ہو جاتے تب تک ان کو اپنی کمر پر بٹھائے رکھتی ہے اور ان کو اپنا گوشت دیتی رہتی ہے اور جب یہ بچے چلنے کے قابل ہو جاتے ہیں تو ان کی ماں مر جاتی ہے مطلب کہ ماں اپنے بچوں کو پالتے پالتے اپنی جان دے دیتی ہے اور پھر یہی بچے اپنی ماں کو چھوڑچ کر چلے جاتے ہیں

بلکل ان جانوروں کی طرح ہی ہیں اجکل کے انسان جو کہ اپنے ماں باپ کو چھوڑ کر چلے جاتے ہیں اجکل کی ماں اپنے بچوں کے ساتھ اپنی ساری زندگی خواری کرتی ہے اور پھر جب بچے جوان ہو جاتے ہیں اور شادی کر لیتے ہیں تو ان کی ماں اپنی کمزوری کی حالت کو پہنچ چکی ہوتی ہے اور پھر یہی بچے اپنی ماں کو کہتے ہیں کہ تم نے ساری زندگی میں ہمارے لیے کیا ہی کیا ہے اور اس کو تن تنہا چھوڑ دیتے ہیں کیا ہمارا اسلام ہمیں یہ درس دیتا ہے حضورؐ نے فرمایا کہ جس شخص کے ماں باپ اس سے ناراض اس دنیا سے چلے گئے اس کی ساری زندگی ہی ختم ہوگئی۔اپنے اپنے والدین کا بہت خیال رکھا کریں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here