عورت کا بلند مقام اور مغربی ایجنڈا

0
169

تحریر: شاہدمشتاق ۔سمبڑیال
اللہ تعالی نے جس عورت کے قدموں تلے جنت رکھ کر اسے عزت و توقیر کی اوج ثریا پہ پہنچادیاہو، وہ اتنی ارزاں تو نہیں ہوسکتی کہ جو چاہے اس سے اپنی ہوس پوری کرکے چلتا بنے۔عورت کا جتنا استحصال مغرب نے کیا ہے مشرق نے نہیں ۔مغرب کا آزادئ نسواں کا دل خوش کن نعرہ اصل میں عورت تک باآسانی سستی رسائی حاصل کرنے کی ایک گھٹیاکوشش کے سوا کچھ نہیں۔
اسلام نے عورت کو جس بلندترمقام سے نوازاہے دنیاکے کسی دوسرے مذہب میں اس کی مثال نہیں ملتی، اس کے باوجود مغربی ممالک اور ان کی پے رول پہ پلنے والے مادر پدر آزاد ایجنٹس اسلامی ممالک میں عورتوں پہ تشدد کا جعلی رونا روتےرہتے ہیں۔پاکستان میں فحاشی پھیلانے کے متمنی مغربی ایجنڈےپہ کام کرنے والے مرد اورعورتیں ایک مربوط پلاننگ کے ذریعے ہمارے معاشرے کو آلودہ کرنے کےلیے مغربی ڈالرز سے چلنے والی این جی اوز بنائے بیٹھی ہیں،جن کا مقصد عورت کو گھر کی ملکہ سے بازار کی لونڈی بناناہے۔
یہ این جی اوز عورتوں پہ جنسی تشدد تو کبھی عورتوں پہ تیزاب پھینکنے کے جھوٹے سچے واقعات کو اچھال کر مغربی ڈالرز بٹورنے میں کمال ہنر رکھتی ہیں ۔ اس سے انکار نہیں کہ ہمارے معاشرے میں بھی اکادکا ایسےحادثات رونما ہوتے رہتےہیں جن میں بچیوں کوجنسی تشددکاسامناکرناپڑتاہے(بلکہ اب کچھ عرصے سے ایسے واقعات تسلسل سے ہورہے ہیں ) یا انکے چہروں پہ تیزاب پھینکاجاتاہےلیکن مغرب کے مقابلے میں ہمارے یہاں ایسے واقعات کی شرح کہیں ذیادہ کم ہے ۔
حقیقت یہ ہے کہ اسلامی اقدار سے دوری کے باوجود عالم اسلام میں عورتوں کی حالت مغربی خواتین کے مقابلے میں کہیں بہتر ہےبلکہ عالم اسلام کامغرب کےساتھ اس حوالے سے تقابل بنتاہی نہیں۔
میرے ایک دوست نے ایک مغربی ویب سائٹ کی جانب سےجنسی تشددکےحوالےسے بڑی عرق ریزی سے تیار کی گئی ایک رپورٹ دکھائی ،جس کےمطابق ٹاپ ٹین ممالک جہاں عورتوں کو سب سے ذیادہ جنسی تشدد(Sexualviolance)کانشانہ بنایا جاتاہےسب غیرمسلم ہیں۔فہرست دیکھنے کےبعد اس مضمون کی تیاری کے سلسلے میں جب میں نےمزید انٹرنیٹ کھنگالا تو میری جستجو حیرت میں بدل گئی یہ دیکھ کرکہ مختلف تحقیقی رپورٹس میں اگرچہ نمبرزاورفگرز آگے پیچھے ہیں،مگر ٹاپ ٹین ممالک سارے غیر مسلم ہی ہیں۔
فہرست کےمطابق ” ایتھوپیا دسویں نمبر پر ہے،جہاں ہرسترہ میں سے ایک کو”ریپ “کیاجاتاہے۔نواں ملک سری لنکاہے،آٹھواں ملک کینیڈاہے ،جہاں دوہزار ایک سے اب تک 2516918کیس رجسٹرڈہوئے،سرکاری محکموں کا ماننا ہے کہ یہ مجموعی تعداد کا چھ فیصد بھی نہیں۔ساتویں نمبرپہ فرانس ہے ،جہاں 1980تک ریپ کو جرم ہی نہیں سمجھاجاتاتھا،فرانس میں سالانہ پچھتر ہزار ریپ کیسز رجسٹرڈہوتےہیں۔چھٹے نمبرپہ جرمنی ہے جہاں ابتک6505468کیسز رجسٹرڈہیں،جن میں دو لاکھ سے اوپر خواتین جنسی تشدد اور خودکشی سے اپنی جان گنوا بیٹھیں۔انگلینڈپانچویں نمبرپہ ہے،جہاں سولہ سے پچپن سال کی ہرپانچ میں سے ایک خاتون کوزبردستی ریپ کاشکارکیاجاتاہے۔ ہندوستان چوتھے نمبرپہ ہے،جہاں ہربائیس منٹ میں ایک ریپ کیس رجسٹرڈ ہوتاہے،یہاں چلتی بسوں اور ٹرینوں تک میں خواتین محفوظ نہیں۔تیسرے پہ سویڈن ہے،جہاں ہرچارمیں سےایک خاتون ریپ اور ہردومیں سے ایک سیکسوئیل ہیراسمنٹ کاشکارہوتی ہیں۔ دوسرے نمبرپہ ساوتھ افریکا ہے جو بےبی اینڈ چائلڈریپ اور ہیراسمنٹ کے حوالے سے بھی دنیاکا بدنام ترین ملک ہے۔
پہلے نمبر پہ عالمی غنڈہ امریکہ ہے
مہذب اور روشن خیال ملک ہونے کی وجہ سے یہاں کیسز بھی کافی عجیب واقع ہوے ہیں، یہاں ہر چھ میں سے ایک عورت تولازمی ریپ کا شکار ہوئی ہے، پر ہر 33 میں سے ایک مرد بھی عورتوں کے ہاتھوں ریپ کا شکار ہوا ہے ، 19.3% عورتیں اور 3.8% فیصد امریکی مرد زندگی میں کم ازکم ایک دفعہ ریپ کا لازمی شکار ہوےہیں”۔
قارئین کرام!
حقیقت یہ ہے کہ مغرب آج جنسی ہوس میں اس قدر اندھاہوچکاہے،جہاں ماں ،بہن ،اور بیٹی کی پہچان ختم ہوچکی ہے، چھ سال کی ایک معصوم بچی سے لے کر ستر سال کی بڑھیا تک کوئی جنسی درندوں سے محفوظ نہیں ہے۔مشہورہالی ووڈ ایکٹریس خوبصورت”انجلیناجولی”نے ایک دفعہ اپنے ایک انٹرویو میں تسلیم کیاتھا کہ اسے پہلی بار صرف چھ سال کی عمر میں جنسی تشدد کانشانہ بنایاگیااور یہ بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں چھلک پڑی تھیں۔یورپین معاشرہ آج اپنی بارہ بارہ سال کی مائیں دیکھ کر بوکھلااٹھاہے، اسے اسلامی معاشرے کی پاکباز ،حیادار،مقدس بچیاں بھلا کیسے برداشت ہونگی؟ یہی وجہ ہے کہ اسے ہمیشہ ہمارے ہاں ایسےمادرپدرآزاد لوگوں کی تلاش رہتی ہے،جو ہماری معاشرتی اقدار کو بےحیائی اور فحاشی سے آلودہ کردیں،اور اس میں کوئی مغالطہ نہیں کہ وہ بڑی تیزی سے اپنے ان ایجنٹس کے ذریعے ہمارے بچے بچیوں کے ذہنوں کو خراب کرتاچلاجارہاہے۔
ہمارا طرزتعلیم،تعلیمی اداروں میں غیرذمہ دارانہ سرگرمیاں،ثقافتی شوز،بچوں کو چھوٹی سی عمر میں بہت کچھ سکھا اور پڑھارہے ہیں، رہی سہی کسر پرائیویٹ ٹی وی چینلز،اور کیبل ،انٹرنیٹ پوری کررہے ہیں،گزشتہ دوعشروں میں فیشن کےنام پہ ہماری خواتین کا لباس کس قدر جدت اختیار کرچکاہے،کبھی غور کیجئے!۔
ٹی وی ڈراموں میں جس طرح کے رومانی مناظر،اور ذومعنی فقرے ادا کئے جاتے ہیں ،اور جس طرح سے نسوانی استعمال کی پراڈکٹس کے اشتہار چلائے جاتے ہیں ،کیا وہ ہماری اسلامی اقدار کےلیے خطرے کی گھنٹی نہیں؟۔
اور آخر میں کائنات کے سب سے حیادارافضل ترین انسان اپنےنبی کریم ﷺکا ایک فرمان عالیشان آپ کے سامنے رکھنا چاہوں گا۔
“جس نے مسلمانوں میں بےحیائی پھیلائی،اس کے لئے دردناک عذاب ہے”۔
اسلامی ممالک کے حکمرانوں سے کسی انقلاب کی توقع رکھنا احمقانہ فعل ہے ۔ والدین کو خود اپنی زمہ داریوں کا احساس رکھتے ہوئے اپنی اولاد کی تربیت کا خاص اہتمام کرنا چاہئے تاکہ بےحیائی کے مغربی سیلاب کے آگے بندھ باندھا جاسکے ۔عورت ایک مقدس خوبصورت پھول ہے، اس گھر کی ملکہ کو بازار کی لونڈی بننے سے بچانے کے لئے ہم سب کو اپنا کردار ادا کرناہوگا۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here