سکھ دھرم،گولڈن ٹیمپل اور بھارت کا مکروہ چہرہ۔۔۔۔۔کالم نویس:شاہد مشتاق سمبڑیال

0
89

سکھ ازم دنیا کا پانچواں سب سے بڑا دھرم ہےجس کی ابتداء پندرھویں صدی کے آس پاس بابا گرو نانک جی نے کی، ہندووں کے گھر میں پیدا ہونے والے بابا گرو نانک کی پرورش مسلمان میاں بیوی نے کی ، اسی لئے کہاجاتا ہے کہ سکھ ازم ، اسلام اور ہندو مت کی درمیانی راہ ہے ۔ شری ہرمندر صاحب(گولڈن ٹیمپل) سکھوں کا سب سے بڑا اور مقدس مقام ہےجو امرتسر میں واقع ہے ، سولہویں صدی میں سکھوں کے چوتھے گرو رام داس جی نے شری ہرمندر صاحب کی بنیادیں کھو دیں اور پہلی اینٹ اس وقت کے مشہور مسلمان صوفی بزرگ میاں میر سے رکھوائی۔

سن 1984ء میں سکھوں کے اس سب سے متبرک و مقدس مقام کے تقدس کو پائمال کرتے ہوئے انڈین آرمی نے یہاں پانچ ہزار سے زائد شردھالووں (زائرین)کو قتل کردیا تھا، کسی بھی مذہبی عبادت گاہ میں اس قدرگھناونے قتل عام کی تاریخ میں دوسری کوئی مثال نہیں ملتی، ٹینکوں توپوں اور جدید اسلحے سے لیس ہزاروں فوجیوں نے ہرمندرصاحب کی اینٹ سے اینٹ بجا کے رکھ دی تھی ، بلاشبہ یہ ہندوستان کا شرمناک ترین فعل تھا جس کی جتنی مزمت کی جائے کم ہے، 1984، میں ناصرف گولڈن ٹیمپل کا تقدس مجروح کیا گیا بلکہ پورے ہندوستان میں ہزاروں سکھوں کو چن چن کر قتل کیا گیا ،عورتوں کی عزتیں لوٹیں گئی ، ان کے مال املاک کو نقصان پہنچایا گیا۔ آج پوری دنیا کی سکھ کمیونٹی خالصتان کا مطالبہ کرنے میں حق بجانب ہے کہ یہ راستہ خود ہندو نیتاوں نے انہیں دکھایا ہے، اللہ کرے خالصتان کا خواب جلد شرمندہ تعبیر ہو ۔

گولڈن ٹیمپل سکھوں کی سب سے بڑی عبادت گاہ ہے اس کے علاوہ اس کی ایک اور خصوصیت ہے جو دنیا کے دوسرے کسی مذہبی مقام پہ نہیں ملتی، کیا آپ جانتے ہیں ؟ کہ دنیا کا سب سے بڑا دسترخوان جہاں ہرروز قریب ایک لاکھ لوگ بالکل مفت کھانا کھاتے ہیں یہیں واقع ہے ۔ پچاس ہزار اسکوائرفٹ پہ مشتمل باورچی خانے میں چار سو پچاس ملازم ہمہ وقت روزانہ لاکھوں زائرین کے لئے کھانا بنانے میں مصروف رہتے ہیں ۔ تیرہ ایکڑ کے ایک جدید زرعی فارم پہ صرف اسی کچن کے لئے ہر قسم کی سبزیاں اگائی جاتی ہیں جہاں سے ہر دوسرے روز ٹرکوں میں بھر کر یہاں لائی جاتی ہیں ، یہاں روزانہ دو لاکھ روٹیاں ، پانچ ہزار کلو سبزیاں ،اور اٹھارہ سو سے دوہزار کلو تک دالیں پکائی جاتی ہیں ، زائرین یہ کھانا زمین پر بیٹھ کر بڑی عقیدت اور احترام سے کھاتے ہیں۔ روز صبح کی چائے کے لئے سات ہزار لیٹر دودھ استعمال کیا جاتا ہے اس کے علاوہ کڑھا پرشاد روزانہ بلاناغہ سات سو کلو گھی اور ساڑھے آٹھ سو کلو آٹے سے تیار کیا جاتا ہے

اور بیساکھی کے دنوں میں یہ سارا انتظام دوگنا کرنا پڑتا ہے۔ سکھوں کے مذہبی مقامات ہند و پاک میں پھیلے ہوئے ہیں ، پاکستان میں سکھ کمیونٹی پوری آزادی سے اپنے مذہبی فرائض سر انجام دیتی ہے جبکہ ہندوستان نے ہمیشہ تمام اقلیتوں کےساتھ تنگ نظری کا مظاہرہ کیا ہے ، آج پورے ہندوستان میں آزادی پسند تحریکیں پورے شد ومد سے اٹھ کھڑی ہوئی ہیں کشمیر کے ساتھ ساتھ اب خالصتان کی تحریک بھی پورے زوروں پر دکھائی دیتی ہے، دنیا بھر میں غیور سکھوں نے بھارت کے خلاف مظاہروں کا سلسلہ جاری رکھا ہوا جس میں ناصرف وہ خالصتان کا نعرہ بلند کرتے ہیں بلکہ پاکستان زندہ باد کہتے اور کشمیری حریت پسندوں کی حمایت کرتے بھی نظر آتے ہیں ۔

کالم نگار: شاہد مشتاق

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here