خدمت حجاج کی اہمیت و فضیلت  

0
63

خانہ کعبہ خانہ خدا ہے ۔یہ زمین  پر اللہ پاک کا سب سے پہلا گھر ہے ۔ اس کے بارے میں قرآن مجید میں آیا ہے کہ یہ بہت مبارک اور بابرکت جگہ ہے ۔ اس میں تمام لوگوں کی ہدایت کا سامان ہے اور یہ تمام جہانوں کے لئے رحمت ہے ۔ حج و عمرہ  کے لئے لوگ اس گھر کی زیارت کا قصد کرتے ہیں۔ یہ لوگ اللہ تعالیٰ کے مہمان ہوتے ہیں ۔ یہ لوگ اس  گھر   کو بسانے اور آباد کرنے کو  جاتے ہیں ۔ یہ لوگ حضرت ابراہیم کی دعا پر لبیک کہتے ہوئے اس سفر مقدس کا عزم کرتے ہیں ۔ ان لوگوں کی خدمت کرنا اللہ پاک کے مہمانوں کی خدمت کرنا ہے ۔ حضور ﷺ نے مہمان نوازی کو مسلمان کے بہترین اخلاق میں شمار کیا ہے   ، مہمان نوازی کرنے والے کو اللہ کا دوست بتایا ہے ، اس کے لئے عرش کے سایہ کا وعدہ ہے ۔ مہمان نوازی کرنے والے کے رزق ، مال اور اولاد میں برکت ہوتی ہے ۔ لیکن جو لوگ اللہ کے مہمان ہوتے ہیں ، اللہ کے گھر کو بسانے اور آباد کرنے کی نیت سے سفر کرتے ہیں ، رسول اللہ کے بقول ایسے لوگ ہوتے ہیں کہ جو تمام گناہوں سے پاک صاف ہوجاتے ہیں ایسے لوگوں کی مہمان نوازی اور خدمت کا کتنا ثواب ہوگا ۔رسول اللہ ﷺ کی آمد سے قبل آپ کے خاندان قریش کی اس حوالے سے شہرت تھی کہ وہ حاجیوں  اور خانہ کعبہ کی خدمت کیا کرتے تھے ۔  آپ کے دادا قصی نے مکہ معظمہ میں مشترکہ حکومت کی بنیاد رکھی ۔ اس کے بعد حجاج کی خدمت  ، بیت اللہ کی دیکھ بھال اور   قبائلی زندگی کی ضروریات کو مدنظر رکھتے ہوئے  مختلف شعبے قائم کیے ۔ان میں  بعض شعبے صرف خانہ کعبہ اور اس کی خدمت کے لئے خاص تھے ۔ خانہ کعبہ کی دیکھ بھال ، حفاظت و دربا نی کا شعبہ حجابہ ، خانہ کعبہ کی چابیوں  کا منصب سدانہ  ، حاجیوں کو پانی پلانے کا منصب سقایہ ، حاجیوں کے لئے کھانے کا بندو بست کرنے کا شعبہ رفادہ  یہ سب آپ نے قائم کیے ۔

 حجاج کی بہبود کے لیے انہوں  نے قریش کو یہ شعور دیا کہ وہ اپنے آپ کو اللہ کے گھر کے خادم اور حجاج کو اللہ کے مہمان سمجھیں۔ انہوں نے پانی کی فراہمی کا نظام بہتر کیا اور قریش کے لیے ضروری قرار دیا کہ وہ چندہ جمع کر کے ایام حج میں حاجیوں کی ضیافت کیا کریں۔  چنانچہ تاریخ و سیرت کی کتابوں میں یہ بات موجود ہے کہ قریش کے لوگ خانہ کعبہ کی دیکھ بھال ، حفاظت   اور نظم و ضبط میں بہت پیش پیش رہا کرتے تھے ۔  قریش کے سردار خانہ کعبہ کی صفائی خود کیا کرتے تھے اور اس کو اپنے لئے اعزاز سمجھتے تھے ۔ ایام حج میں اپنے بہترین جانور تک ذبح کیا کر دیتے تھے تاکہ حاجیوں کی مہمان نواز ی کی جاسکے ۔قصی نے اس سلسلے میں کچھ کا م خود کرنے کا بیڑہ اٹھایا ۔ قصی وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے ایام حج میں مزدلفہ میں مشعر الحرام میں  روشنی کا انتظام کیا ۔  سقایہ ” حاجیوں کو پانی پلانا ” اور رفادہ ” حاجیوں کو کھانا کھلانے کاا نتظام کرنا ”  یہ کام اپنے ذمے لیے ۔رسول خدا ﷺ کے پردادا حضرت ہاشم  نے اسی منصب رفادہ اور سقایہ کو نہایت خوبی سے سر انجام دیا ۔ آپ بہت زیادہ مہمان نواز تھے ۔ ایک سال مکہ معظمہ میں قحط پڑگیا ، آپ ملک شام سے خشک روٹیاں خرید کر اونٹوں پر لاد کر ایام حج میں مکہ پہنچے اور روٹیوں کا چورا کرکے اونٹوں کے شوربے میں ڈال کر ثرید بنایا اور زائرین کو پیٹ بھر کر کھانا کھلایا ۔ اس دن سے ان کو ہاشم روٹیوں کو چورہ کرنے والا کہنے لگے ۔ ہاشم بہت  مالدار تھے ، حاجیوں کی خدمت کے لئے وہ اپنے سے زر کثیر خرچ کرتے تھے ۔

رسول اللہ کے خاندان قریش اور بعد ازاں بنوہاشم کی  حاجیوں کی اس خدمت کی شہرت پورے عرب میں تھی ۔  اللہ تعالیٰ نے اس گھر کی خدمت کی وجہ سے ان کو پورے عرب میں  عزت اور شہرت سے نوازا تھا ۔ پورے عرب میں اسی وجہ سے ان کی عزت تھی ۔ اور اسی خدمت کی وجہ سے  اللہ پاک نے ان کی تجار ت میں برکت عطا کردی تھی ۔  بھوک و افلا س کی زندگی گزارنےوالے لوگ اس گھر کی خدمت کی وجہ سے  پورے عرب میں خصوصی اعزاز و اکرام کے مالک ہوئے ۔رسول اللہ جب تشریف لائے تو آپ نے  خانہ  خدا کی خدمت  اور اللہ پاک کے مہمانوں کی ضیافت کے ان مناصب کو نہ صرف قائم رکھا بلکہ ان میں مزید بہتری فرمائی ۔  آپ کے آخری حج کا واقعہ ہے  کہ بنو عبد المطلب قریش قبیلہ میں سے خالص آپ کا خاندان  جن کے حصہ میں حج کی مختلف خدمات میں سے پانی پلانے  اور کھانا کھلانے کی ذمہ داری تھی ۔ وہ اس ڈیوٹی کو سر انجام دے رہے تھے ۔ آپ ﷺ ظہر کی نماز کے بعد  بنوعبد المطلب کے پاس تشریف لے گئے۔ وہ حجاج کرام کو زمزم کا پانی پلارہے تھے۔ آپﷺنے فرمایا : بنو عبدالمطلب تم لوگ پانی کھینچو۔ اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ پانی پلانے کے اس کام میں لوگ تمہیں مغلوب کردیں گے تو میں بھی تم لوگوں کے ساتھ کھینچتا – یعنی اگر صحابہ کرام رسول اللہﷺ کو خود پانی کھینچتے ہوئے دیکھتے تو ہر صحابی  پانی کھینچنے کی کوشش کرتا۔ اور اس طرح حجاج کو زمزم پلانے کا جو شرف بنو عبد المطلب کو حاصل تھا اس کا نظم ان کے قابو میں نہ رہ  پاتا  – چنانچہ بنو عبد المطلب نے آپﷺ کو ایک ڈول پانی دیا۔ اور آپﷺ نے اس میں سے حسبِ خواہش پیا۔گویا آپ ﷺ کی شدید خواہش تھی لیکن آپ کو دیکھ کر کہیں سارے لوگ پانی بھرنے نہ لگ جائیں آپ نے اس کام کو نہیں کیا ۔

تمام گفتگوکا حاصل ہے کہ حاجیوں ، عمرہ کرنے والوں اور زائرین کی خدمت ایک ایسا کام ہے جس کی وجہ سے اللہ پاک ر زق ، مال  اور اولاد میں برکت عطاء فرماتے ہیں ۔ انسان کی عزت و عظمت میں اضافہ فرماتے ہیں جیسا کہ قریش کی حیثیت خالص اس گھر کی خدمت کی مرہون منت تھی ۔ رسول اللہ کی آمد سے قبل   بھی اس کام کو عظیم سمجھا جاتا تھا اور آپ کی آمد کے بعد بھی ، آپ کی ذاتی خواہش رہی کہ اس عظیم خدمت کو سر انجام دیں ۔حرم پاک  اور یہ مقدس جگہیں اسلام کے شعائر میں سے ہیں ۔ ان کا احترام ہر مسلمان پر فرض ہے ۔ ان کے احترام میں سے ہے کہ ان کی خدمت اور دیکھ بھال کی جائے ۔  ان کی زیارت کرنا بہت بڑے ثواب کا کام ہے۔  ان کی خدمت کرنے والے لوگ بھی ان لوگوں کے ساتھ زیارت و عبادت میں برابر کے شریک ہوتے ہیں جو حج و عمرہ کرنے جاتے ہیں ۔ کیونکہ اللہ کے نبی نے فرمایا کہ جو نیکی کے کام میں دوسروں کی مدد کرتاہے وہ اس نیکی میں اس کے ساتھ برابر کا شریک ہوتاہے ۔اس لئے ایسا کوئی بھی موقع ملے اس کو اعزاز سمجھنا چاہیے ۔حج و عمرہ کرنے والوں کی خدمت کا یہاں کوئی موقع ملے  یا وہاں جا کر اس کو غنیمت سمجھ کر قبول کرنا چاہیے ۔  اللہ پاک ہمیں عمل کی توفیق عطاء فرمائے ۔ 

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here