اگر امریکا چاہتا ہے کہ ان کے فوجیوں پر حملے نہ ہوں تو وہ معاہدہ کر لے:طالبان

0
37

دوحا (ویب ڈیسک) افغان طالبان کا کہنا ہے کہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ ان کے فوجیوں پر حملے نہ ہوں تو وہ ہم سے معاہدہ کر لے۔میڈیا رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ امریکا اور افغان کے درمیان 18 سالہ طویل جنگ کے خاتمے کے لیے گذشتہ برس اکتوبر میں مذاکرات شروع ہوئے تھے

رواں ماہ تک دونوں فریقین کے درمیان مذاکرات کے 9 دور ہوئے. تاہم چند روز قبل امریکی صدر نے کابل میں ایک امریکی فوجی کی ہلاکت کی وجہ سے طالبان کے ساتھ جاری مذاکرات منسوخ کر دئیے.طالبان نے امریکی صدر کے فیصلے پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ معاہدے کی منسوخی سے امریکا کو ہی زیادہ نقصان ہو گا.میڈیا رپورٹس کے مطابق دوحا امیں طالبان دفتر کے ترجمان سہیل شاہین نے الجزیزہ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ یہ ہمارے لیے بہت حیران کن تھا کیونکہ امریکا کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ معاہدہ ہو چکا تھا. سہیل شاہین کا مزید کہنا تھا کہ افغانستان میں فائر بندی کبھی بھی مذاکرات کا حصہ نہیں رہے.تاہم افغان حکومت کے ساتھ مذاکرات پر بات کی گئی لیکن وہ ابھی اس صورت میں کہ جب افغانستان سے غیر ملکی فوجیں مکمل طور پر نکل جائیں.انہوں نے مزید کہا کہ دوسرے افغانوں کی طرح ہم بھی امریکا کے ساتھ مذاکرات کرنا چاہتے ہیں

اگر ان کے ساتھ فائر بندی کا معاہدہ ہوجاتا تو ان پر حملے نہیں ہوں گے لیکن یہ افغانستان کے معاملے کا ایک دوسرا ایشو ہے. ہم پہلے افغانستان سے غیر ملکی فورسز کا انخلا چاہتے ہیں.ترجمان افغان طالبان نے مزیدکہا کہ معاہدے کی صورت میں طالبان کی جانب سے امریکا کو افغانستان سے فوجوں کے انخلا کے لیے محفوظ راستہ دینے کا نکتہ بھی شامل تھا لیکن یہ چیز معاہدہ طے پا جانے کی صورت میں تھی.انہوں نے کہا اگر ہم امریکا کے ساتھ معاہدہ کرتے ہیں

تو یہ ہمارا فرض ہے کہ ہم ان پر حملے نہ کریں. اور انہیں محفوظ راستہ فراہم کریں،اگر وہ معاہدے کے بغیر جاتے ہیں تو یہ ہماری صوابدید ہے کہ ہم ان پر حملہ کرتے ہیں یا انہیں جانے دیتے ہیں.شاہین سہیل نے امریکا کو دو ٹوک پیغام دیتے ہوئے کہا کہ اگر امریکا چاہتا ہے کہ ہم ان پر حملہ نہ کریں تو ہمارے ساتھ معاہدہ کر لے.ہم ان پر حملے نہیں کریں گے لیکن اگر وہ اپنی بریت جاری رکھتا ہے ،رات کے آپریشن جاری رکھتا ہے تو ہم بھی وہی انداز اپنائیں گے جو گذشتہ 18 سال سے جاری ہے

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here